غزل
عذر ان کی زبان سے نکلا
عذر ان کی زبان سے نکلا
یہ غزل محبوب کے عذر و انکار کے دلدوز اثر کو بیان کرتی ہے جو عاشق کے دل پر کمان سے نکلے تیر کی مانند اثر کرتا ہے۔ اس میں محبوب کے فتنہ ساماں حسن اور اس کی دلکش بے رخی سے پیدا ہونے والی حیرت اور تڑپ کا پُرتاثیر اظہار ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
उज़्र उन की ज़बान से निकला
तीर गोया कमान से निकला
عذر ان کی زبان سے نکلا
تیر گویا کمان سے نکلا
ان کی زبان سے بہانہ اس طرح نکلا جیسے کمان سے کوئی تیر چھوٹا ہو۔
2
वो छलावा इस आन से निकला
अल-अमाँ हर ज़बान से निकला
وہ چھلاوا اس آن سے نکلا
الاماں ہر زبان سے نکلا
وہ چھلاوا ایسی آن بان اور شان سے سامنے آیا کہ ہر شخص کی زبان سے بے ساختہ پناہ کی صدا (الاماں) نکل پڑی۔
3
ख़ार-ए-हसरत बयान से निकला
दिल का काँटा ज़बान से निकला
خار حسرت بیان سے نکلا
دل کا کانٹا زبان سے نکلا
حسرت کا کانٹا بیان کرنے سے نکل گیا اور دل میں چبھا ہوا کانٹا زبان کے ذریعے باہر آ گیا۔
4
फ़ित्ना-गर क्या मकान से निकला
आसमाँ आसमान से निकला
فتنہ گر کیا مکان سے نکلا
آسماں آسمان سے نکلا
جیسے ہی وہ فتنہ برپا کرنے والا اپنے گھر سے باہر نکلا، ایسا لگا گویا آسمان میں سے ایک اور آسمان نمودار ہو گیا۔
5
आ गया ग़श निगाह देखते ही
मुद्दआ कब ज़बान से निकला
آ گیا غش نگاہ دیکھتے ہی
مدعا کب زبان سے نکلا
ان کی نگاہ دیکھتے ہی مجھ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر دل کا مدعا بھلا زبان سے کب نکل پاتا۔
6
खा गए थे वफ़ा का धोका हम
झूट सच इम्तिहान से निकला
کھا گئے تھے وفا کا دھوکا ہم
جھوٹ سچ امتحان سے نکلا
ہم وفاداری کے فریب میں آ گئے تھے، مگر کیا جھوٹ تھا اور کیا سچ، یہ امتحان اور آزمائش کے بعد ہی سامنے آیا۔
7
दिल में रहने न दूँ तिरा शिकवा
दिल में आया ज़बान से निकला
دل میں رہنے نہ دوں ترا شکوہ
دل میں آیا زبان سے نکلا
میں تمہارا کوئی شکوہ اپنے دل میں نہیں رہنے دوں گا؛ جیسے ہی وہ دل میں آتا ہے، فوراً زبان سے نکل جاتا ہے۔
8
वहम आते हैं देखिए क्या हो
वो अकेला मकान से निकला
وہم آتے ہیں دیکھیے کیا ہو
وہ اکیلا مکان سے نکلا
دل میں طرح طرح کے وسوسے اور اندیشے پیدا ہو رہے ہیں کہ دیکھیے کیا ہو، کیونکہ وہ گھر سے اکیلا نکلا ہے۔
9
तुम बरसते रहे सर-ए-महफ़िल
कुछ भी मेरी ज़बान से निकला
تم برستے رہے سر محفل
کچھ بھی میری زبان سے نکلا
کیا میری زبان سے ایسا کچھ نکلا بھی تھا کہ تم بھری محفل میں مجھ پر برستے رہے؟
10
सच तो ये है मोआमला दिल का
बाहर अपने गुमान से निकला
سچ تو یہ ہے معاملہ دل کا
باہر اپنے گمان سے نکلا
سچ تو یہ ہے کہ دل کا معاملہ میرے گمان اور اندازے سے کہیں باہر نکلا۔
11
उस को आयत हदीस क्या समझें
जो तुम्हारी ज़बान से निकला
اس کو آیت حدیث کیا سمجھیں
جو تمہاری زبان سے نکلا
جو بات تمہاری زبان سے نکلی ہے، ہم اسے محض کوئی آیت یا حدیث ہی کیوں سمجھیں؟
12
पड़ गया जो ज़बाँ से तेरी हर्फ़
फिर न अपने मकान से निकला
پڑ گیا جو زباں سے تیری حرف
پھر نہ اپنے مکان سے نکلا
تمہاری زبان سے جو حرف یا بات نکل گئی، اس کے بعد وہ شخص پھر کبھی اپنے گھر سے باہر نہیں نکلا۔
13
देख कर रू-ए-यार सल्ले-अला
बे-तहाशा ज़बान से निकला
دیکھ کر روئے یار صل علیٰ
بے تحاشا زبان سے نکلا
محبوب کا چہرہ دیکھ کر میری زبان سے بے اختیار اور اچانک 'صل علیٰ' نکل پڑا۔
14
लो क़यामत अब आई वो काफ़िर
बन-बना कर मकान से निकला
لو قیامت اب آئی وہ کافر
بن بنا کر مکان سے نکلا
دیکھو اب قیامت آ ہی گئی کیونکہ وہ کافر محبوب خوب سج سنور کر اپنے گھر سے باہر نکلا ہے۔
15
मर गए हम मगर तिरा अरमान
दिल से निकला न जान से निकला
مر گئے ہم مگر ترا ارمان
دل سے نکلا نہ جان سے نکلا
ہم تو مر گئے مگر آپ کی تمنا نہ ہمارے دل سے نکلی اور نہ ہی جان سے جدا ہوئی۔
16
रहरव-ए-राह-ए-इश्क़ थे लाखों
आगे मैं कारवान से निकला
رہرو راہ عشق تھے لاکھوں
آگے میں کاروان سے نکلا
عشق کے راستے پر لاکھوں مسافر تھے، لیکن میں اس پورے قافلے سے آگے نکل گیا۔
17
समझो पत्थर की तुम लकीर उसे
जो हमारी ज़बान से निकला
سمجھو پتھر کی تم لکیر اسے
جو ہماری زبان سے نکلا
جو کچھ بھی ہماری زبان سے نکلا ہے، اسے پتھر کی لکیر یعنی بالکل اٹل اور انمٹ سمجھو۔
18
बज़्म से तुम को ले के जाएँगे
काम कब फूल-पान से निकला
بزم سے تم کو لے کے جائیں گے
کام کب پھول پان سے نکلا
ہم آپ کو اس محفل سے اپنے ساتھ لے کر ہی جائیں گے، کیونکہ محض پھول اور پان پیش کرنے سے کبھی کام نہیں بنا۔
19
क्या मुरव्वत है नावक-ए-दिल-दोज़
पहले हरगिज़ न जान से निकला
کیا مروت ہے ناوک دل دوز
پہلے ہرگز نہ جان سے نکلا
دل کو چھیدنے والے تیر کی بھی کیا مروت ہے کہ وہ جان نکلنے سے پہلے ہرگز جسم سے جدا نہ ہوا۔
20
तेरे दीवानों का भी लश्कर आज
किस तजम्मुल से शान से निकला
تیرے دیوانوں کا بھی لشکر آج
کس تجمل سے شان سے نکلا
آج تمہارے عاشقوں کا لشکر کس قدر دبدبے اور شان و شوکت کے ساتھ نکلا ہے۔
21
मुड़ के देखा तो मैं ने कब देखा
दूर जब पासबान से निकला
مڑ کے دیکھا تو میں نے کب دیکھا
دور جب پاسبان سے نکلا
میں نے مڑ کر تب ہی دیکھا جب میں پہرے دار کی نظروں سے بہت دور نکل گیا۔
22
वो हिले लब तुम्हारे वादे पर
वो तुम्हारी ज़बान से निकला
وہ ہلے لب تمہارے وعدے پر
وہ تمہاری زبان سے نکلا
وعدے کی بات پر تمہارے ہونٹ ہلے اور وہ بات تمہاری زبان سے نکل گئی۔
23
उस की बाँकी अदा ने जब मारा
दम मिरा आन तान से निकला
اس کی بانکی ادا نے جب مارا
دم مرا آن تان سے نکلا
جب اس کے شوخ اور بانکے انداز نے مجھے مار ڈالا، تو میری جان بڑی آن بان اور شان کے ساتھ نکلی۔
24
मेरे आँसू की उस ने की तारीफ़
ख़ूब मोती ये कान से निकला
میرے آنسو کی اس نے کی تعریف
خوب موتی یہ کان سے نکلا
اس نے میرے آنسو کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس کان سے کتنا عمدہ موتی نکلا ہے۔
25
हम खड़े तुम से बातें करते थे
ग़ैर क्यूँ दरमियान से निकला
ہم کھڑے تم سے باتیں کرتے تھے
غیر کیوں درمیان سے نکلا
ہم کھڑے تم سے باتیں کر رہے تھے، پھر یہ غیر ہمارے درمیان میں کیوں آ گیا۔
26
ज़िक्र अहल-ए-वफ़ा का जब आया
'दाग़' उन की ज़बान से निकला
ذکر اہل وفا کا جب آیا
داغؔ ان کی زبان سے نکلا
جب بھی وفادار لوگوں کا ذکر آیا، تو ان کی زبان سے 'داغ' ہی کا نام نکلا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
