آ گیا غش نگاہ دیکھتے ہی — داغ دہلوی

آ گیا غش نگاہ دیکھتے ہی مدعا کب زبان سے نکلا

“A swoon overcame me the instant I met that gaze; when did my heart's plea ever pass my lips?”

— داغ دہلوی

معنی

ان کی نگاہ دیکھتے ہی مجھ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر دل کا مدعا بھلا زبان سے کب نکل پاتا۔

تشریح

یہ شعر محبت کے اس بے پناہ اور سحر انگیز اثر کو بیان کرتا ہے جہاں عاشق اپنے دل کا حال سنانے تو جاتا ہے، مگر محبوب کی ایک نگاہ کے روبرو ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے۔ دل میں کہنے کو تو بے شمار تمنائیں تھیں، لیکن حسن کی تاب نہ لا کر زبان تک کوئی بات آ ہی نہ سکی۔ گویا عشق کے حضور الفاظ بے بس ہو گئے اور دل کا سارا مدعا خاموشی میں ہی فنا ہو گیا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.