خار حسرت بیان سے نکلا — داغ دہلوی
“The thorn of yearning found release through speech; the heart's deep barb was drawn out by the tongue.”
معنی
حسرت کا کانٹا بیان کرنے سے نکل گیا اور دل میں چبھا ہوا کانٹا زبان کے ذریعے باہر آ گیا۔
تشریح
دل میں چھپی کوئی حسرت یا ان کہا درد ایک تیز کانٹے کی طرح انسان کو اندر ہی اندر کچوکے لگاتا رہتا ہے۔ شاعر یہاں اظہار کی سچی طاقت بیان کر رہے ہیں کہ جب دل کا بوجھ لفظوں میں ڈھلتا ہے، تو گویا وہ چبھتا ہوا کانٹا زبان کے ذریعے باہر کھنچ آتا ہے اور دل ہلکا ہو جاتا ہے۔ یہ شعر دراصل یہ سکھاتا ہے کہ اپنے رنج و الم کو زباں دینا ہی روح کو سکون بخشنے اور دکھ سے نجات پانے کا سب سے خوبصورت راستہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
