کیا مروت ہے ناوک دل دوز — داغ دہلوی
کیا مروت ہے ناوک دل دوز
پہلے ہرگز نہ جان سے نکلا
“What gracious courtesy the heart-piercing arrow shows—it never once departed before life itself had fled.”
— داغ دہلوی
معنی
دل کو چھیدنے والے تیر کی بھی کیا مروت ہے کہ وہ جان نکلنے سے پہلے ہرگز جسم سے جدا نہ ہوا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر نے محبوب کے جان لیوا تیر کی ستم ظریفی کو ایک دلکش اور درد بھرے طنز کے ساتھ پیش کیا ہے۔ وہ تیر کے اخلاق اور مروت کی تعریف کرتے ہیں کہ اس نے دمِ آخر تک عاشق کا ساتھ نبھایا اور اسے اکیلا نہیں چھوڑا۔ یہ تیر سینے سے تب ہی جدا ہوا جب جسم سے روح رخصت ہو گئی، یعنی محبت کا یہ زخم زندگی ختم ہونے تک وفادار رہا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
