مڑ کے دیکھا تو میں نے کب دیکھا — داغ دہلوی
“When did I ever turn back to look? / Only when I had ventured far beyond the sentinel's gaze.”
معنی
میں نے مڑ کر تب ہی دیکھا جب میں پہرے دار کی نظروں سے بہت دور نکل گیا۔
تشریح
اس شعر میں قید و بند سے رہائی کی داستان اور ماضی کی طرف ایک اداس نگاہ کا بڑا دلکش بیان ہے۔ 'پاسبان' یعنی نگہبان دراصل دنیا کی بندشوں اور ان کڑی نظروں کی علامت ہے جن کے خوف سے قدم پیچھے مڑنے کی ہمت نہیں پاتے تھے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب وہ ان حدود سے بہت دور نکل گیا تبھی اس نے پلٹ کر دیکھا، یعنی مکمل آزادی پا لینے کے بعد بھی بچھڑی ہوئی بستی کو ایک حسرت بھری نظر سے دیکھنا دل کی مجبوری بن گیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
