وہ چھلاوا اس آن سے نکلا — داغ دہلوی

وہ چھلاوا اس آن سے نکلا الاماں ہر زبان سے نکلا

“With such dazzling splendor that phantom stepped forth, / That cries of 'Heaven have mercy!' burst from every tongue.”

— داغ دہلوی

معنی

وہ چھلاوا ایسی آن بان اور شان سے سامنے آیا کہ ہر شخص کی زبان سے بے ساختہ پناہ کی صدا (الاماں) نکل پڑی۔

تشریح

شاعر اپنے محبوب کو ایک 'چھلاوا' قرار دے رہا ہے، جو پل بھر میں نگاہوں سے اوجھل ہو جانے والا جادو ہے۔ مگر جب وہ پوری آن بان اور دلفریبی کے ساتھ جلوہ گر ہوا، تو اس کا حسن اس قدر مسحور کن اور پُرجلال تھا کہ ہر دیکھنے والے کے لبوں سے بے ساختہ 'الاماں' نکل پڑا۔ یہ شعر حسن کی اس ہیبت اور رعنائی کی تصویر کشی کرتا ہے جو دلوں کو بیک وقت حیران اور بے بس کر دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.