مر گئے ہم مگر ترا ارمان — داغ دہلوی

مر گئے ہم مگر ترا ارمان دل سے نکلا نہ جان سے نکلا

“Though I have died, this longing for you / Departed neither from my heart, nor from my soul.”

— داغ دہلوی

معنی

ہم تو مر گئے مگر آپ کی تمنا نہ ہمارے دل سے نکلی اور نہ ہی جان سے جدا ہوئی۔

تشریح

یہ شعر عشق کے اس جذبے کی عکاسی کرتا ہے جس پر موت بھی غالب نہیں آ سکتی۔ شاعر کہتا ہے کہ زندگی کی سانسیں تو ختم ہو گئیں، مگر محبوب کی حسرت اور ارمان نہ تو دل سے رخصت ہوا اور نہ روح سے جدا ہوا۔ یہ اس لازوال تڑپ کا بیان ہے جہاں عاشق خود تو فنا ہو جاتا ہے، لیکن اس کی محبت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.