فتنہ گر کیا مکان سے نکلا — داغ دہلوی
“As the maker of turmoil stepped out from home, a sky broke forth from within the sky.”
معنی
جیسے ہی وہ فتنہ برپا کرنے والا اپنے گھر سے باہر نکلا، ایسا لگا گویا آسمان میں سے ایک اور آسمان نمودار ہو گیا۔
تشریح
شاعر اپنے محبوب کو پیار سے ’فتنہ گر‘ پکار رہا ہے، جس کا جادوئی حسن دنیا میں قیامت یا ہنگامہ برپا کر دیتا ہے۔ جب وہ گھر سے باہر قدم رکھتا ہے تو شاعر کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آسمان کے سینے سے ایک اور نیا آسمان نکل آیا ہو۔ حسن کی یہ بے پناہ وسعت اور جلوہ گری پورے منظر پر چھا جاتی ہے اور دل کو سراسر حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
