عذر ان کی زبان سے نکلا — داغ دہلوی
عذر ان کی زبان سے نکلا
تیر گویا کمان سے نکلا
“An excuse escaped their lips, as though an arrow was loosed from a bow.”
— داغ دہلوی
معنی
ان کی زبان سے بہانہ اس طرح نکلا جیسے کمان سے کوئی تیر چھوٹا ہو۔
تشریح
اس شعر میں محبوب کے انکار اور بہانے کی تکلیف کو کمال خوبصورتی سے باندھا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ محبوب کے لبوں سے نکلا ہوا عذر کمان سے چھوٹے تیر کی مانند ہے، جو سیدھا دل پر وار کرتا ہے اور کبھی پلٹ کر واپس نہیں آتا۔ یہ شعر بتاتا ہے کہ محبت میں سامنے والے کے چند بے اعتنائی کے بول دل کو کسی خنجر سے بھی زیادہ گہرا زخم دے جاتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
1 / 26Next →
