ہم کھڑے تم سے باتیں کرتے تھے — داغ دہلوی
“I was standing there, speaking with you; why did the rival emerge between us two?”
معنی
ہم کھڑے تم سے باتیں کر رہے تھے، پھر یہ غیر ہمارے درمیان میں کیوں آ گیا۔
تشریح
ذرا اس منظر کا تصور کیجیے کہ عاشق اپنے محبوب کے ساتھ راز و نیاز میں مگن ہو اور عین اس لمحے دونوں کے درمیان کوئی تیسرا شخص یعنی 'غیر' آ نکلے۔ یہ شعر وصل کے اس ٹوٹتے ہوئے نازک لمحے، اچانک پہنچنے والے صدمے اور دل میں اٹھنے والی کسک کو بڑی سادگی سے بیان کرتا ہے۔ اس بظاہر سیدھے سوال میں محبوب سے ایک دھیما سا شکوہ بھی پنہاں ہے کہ آخر ہمارے درمیان غیر کے قدم جمانے کی گنجائش کیسے بن گئی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
