دیکھ کر روئے یار صل علیٰ — داغ دہلوی
“Beholding the beloved's radiant face, 'Praise be!' / Broke forth unbidden from my tongue.”
معنی
محبوب کا چہرہ دیکھ کر میری زبان سے بے اختیار اور اچانک 'صل علیٰ' نکل پڑا۔
تشریح
یہ شعر محبوب کے چہرے کے اس غیر معمولی اور روحانی حسن کی عکاسی کرتا ہے جو انسان کو مسحور اور لاجواب کر دے۔ 'صل علیٰ' دراصل تعریف، ستائش اور برکت کا کلمہ ہے، اور شاعر کے لیے محبوب کا جمال اتنا پاکیزہ اور تابناک ہے کہ یہ کلمات بغیر سوچے سمجھے بے ساختہ زبان پر آ جاتے ہیں۔ اس میں کوئی بناوٹ نہیں، بلکہ حسنِ یار کا جلوہ دیکھ کر ایک سچی اور فطری داد بے اختیار دل سے جاری ہو گئی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
