اس کی بانکی ادا نے جب مارا — داغ دہلوی

اس کی بانکی ادا نے جب مارا دم مرا آن تان سے نکلا

“When struck down by her jaunty, coquettish grace, my breath departed with proud grandeur and stately pace.”

— داغ دہلوی

معنی

جب اس کے شوخ اور بانکے انداز نے مجھے مار ڈالا، تو میری جان بڑی آن بان اور شان کے ساتھ نکلی۔

تشریح

اس شعر میں محبوب کے تیرِ ادا سے گھائل عاشق اپنی جان کنی کے لمحے کو بھی ایک جشن بنا دیتا ہے۔ جب محبوب کے تیکھے اور البیلے انداز نے جان لی، تو عاشق بے بسی سے نہیں تڑپا بلکہ اس کی روح پوری شان، آن بان اور ناز کے ساتھ رخصت ہوئی۔ یہاں عشق میں مٹ جانا کوئی رسوائی یا دکھ نہیں، بلکہ محبوب کے روبرو فخر سے سر اٹھا کر دی گئی جان ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.