کھا گئے تھے وفا کا دھوکا ہم — داغ دہلوی

کھا گئے تھے وفا کا دھوکا ہم جھوٹ سچ امتحان سے نکلا

“I had fallen prey to the illusion of fidelity; what was false and what was true only emerged through the trial.”

— داغ دہلوی

معنی

ہم وفاداری کے فریب میں آ گئے تھے، مگر کیا جھوٹ تھا اور کیا سچ، یہ امتحان اور آزمائش کے بعد ہی سامنے آیا۔

تشریح

یہ شعر اس تلخ حقیقت کو بیان کرتا ہے جب کسی پر کیا گیا اندھا اعتبار وقت کے ہاتھوں ٹوٹ جاتا ہے۔ شاعر سادگی سے اعتراف کرتا ہے کہ وہ کسی کے وفا کے دلکش دعووں پر دل ہار بیٹھا تھا اور فریب کو سچ سمجھ بیٹھا۔ مگر جذبوں کی اصلیت باتوں سے نہیں بلکہ کڑے وقت سے ثابت ہوتی ہے؛ جب آزمائش کی گھڑی آئی تو سارا دکھاوا مٹ گیا اور سچ اور جھوٹ کھل کر سامنے آ گیا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.