اس کو آیت حدیث کیا سمجھیں — داغ دہلوی

اس کو آیت حدیث کیا سمجھیں جو تمہاری زبان سے نکلا

“Why deem it merely sacred verse or scripture divine, that which has issued forth from those lips of thine?”

— داغ دہلوی

معنی

جو بات تمہاری زبان سے نکلی ہے، ہم اسے محض کوئی آیت یا حدیث ہی کیوں سمجھیں؟

تشریح

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کے کلام کو حد درجے تقدس اور عقیدت کا جامہ پہنا رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جو بات تمہارے لبوں سے ادا ہوئی ہو، اسے ہم محض آیت یا حدیث کے درجے تک کیوں محدود سمجھیں، ہمارے لیے تو اس کی کشش اور صداقت ہر شے سے بڑھ کر ہے۔ یہ محبت کی اس وارفتگی کی تصویر ہے جہاں محبوب کا ہر بول دل کی تسکین اور سچا ایمان بن جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.