ذکر اہل وفا کا جب آیا — داغ دہلوی

ذکر اہل وفا کا جب آیا داغؔ ان کی زبان سے نکلا

“Whenever the mention of the faithful arose, 'Dagh' was the name that slipped from her lips.”

— داغ دہلوی

معنی

جب بھی وفادار لوگوں کا ذکر آیا، تو ان کی زبان سے 'داغ' ہی کا نام نکلا۔

تشریح

اس شعر میں ایک عاشق کا معصوم سا فخر اور دل کی گہری تسکین جھلکتی ہے۔ جب بھی محفل میں سچے وفا داروں کا تذکرہ چھڑا، تو محبوب کی زبان سے بے ساختہ 'داغ' ہی کا نام نکلا۔ یہ اس بات کا خوبصورت ثبوت ہے کہ محبوب لاکھ بے رخی برتے، مگر دل ہی دل میں وہ جانتا ہے کہ وفا کی سب سے سچی اور جیتی جاگتی تصویر اس کا عاشق ہی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev26 / 26