تم برستے رہے سر محفل — داغ دہلوی

تم برستے رہے سر محفل کچھ بھی میری زبان سے نکلا

“Did anything even escape my lips, that you kept pouring wrath before the entire assembly?”

— داغ دہلوی

معنی

کیا میری زبان سے ایسا کچھ نکلا بھی تھا کہ تم بھری محفل میں مجھ پر برستے رہے؟

تشریح

اس شعر میں شاعر نے سرِ محفل ہونے والی اپنی دل آزاری اور بے گناہی کا نہایت درد بھرا نقشہ کھینچا ہے۔ محبوب سب کے سامنے برہم ہو کر طوفان کی طرح برستا رہا، جبکہ عاشق دل ہی دل میں حیران ہے کہ آخر اس کی زبان سے ایسا کیا نکل گیا تھا جس کی اتنی کڑی سزا ملی۔ یہ شعر ایک طرف بے جا غصے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے تو دوسری طرف خاموشی اور ضبط کے اس وقار کو عیاں کرتا ہے جو سب کچھ سہہ کر بھی تماشا نہیں بنتا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.