Sukhan AI
غزل

फ़लक ने गर किया रुख़्सत मुझे सैर-ए-बयाबाँ को

फ़लक ने गर किया रुख़्सत मुझे सैर-ए-बयाबाँ को
میر تقی میر· Ghazal· 24 shers

یہ غزل جدائی کے گہرے جذبات اور زندگی کی مشکل صورتحال کے درمیان انسانی وجود کے جدوجہد کو پیش کرتی ہے۔ شاعر بیان کرتا ہے کہ کس طرح فلک (قضا) نے اسے صحرا کے سفر پر مجبور کیا، جس سے وہ اپنے اندرونی درد اور بے چینی کا اظہار کرتا ہے۔ یہ کلام زندگی کے مشکل مراحل اور محبت کی پیچیدگی کو ایک فلسفیانہ زاویے سے پیش کرتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
2
वो ज़ालिम भी तो समझे कह रखा है हम ने याराँ को कि गोरिस्तान से गाड़ें जुदा हम अहल-ए-हिज्राँ को
वो ظالم بھی تو سمجھ گئے، یہ کہہ دیا ہے ہم نے یاراں کو، کہ ہم اَهلِ ہجران سے گڑستان سے الگ ہو جائیں گے۔
3
नहीं ये बेद-ए-मजनूँ गर्दिश-ए-गरदून-ए-गर्दां ने बनाया है शजर क्या जानिए किस मू परेशाँ को
نہ یہ بےدِ مجنون اور گردشِ گردونِ گرداں نے جان پایا کہ اس شجر کو کس بے قرار نے بنایا ہے۔
4
हुए थे जैसे मर जाते पर अब तो सख़्त हसरत है किया दुश्वार नादानी से हम ने कार-ए-आसाँ को
پہلے ایسا تھا جیسے مر رہے تھے، مگر اب تو سخت ترشح ہے۔ ہم نے نادانی سے جو کام آسان تھا، اسے مشکل بنا دیا۔
5
कहीं नस्ल आदमी की उठ न जावे इस ज़माने में कि मोती आब-ए-हैवाँ जानते हैं आब-ए-इंसाँ को
कहीं नस्ل آدمی کی اٹھ نہ جاویے اس زمانے میں، کہ موتی آب-ِ حیوان جانتے ہیں آب-ِ انسان کو۔ اس کا مطلب ہے کہ اس دور میں ایسا وقت نہ آئے کہ موتی صرف جانوروں کے پانی کو جانیں، نہ کہ انسان کے پانی کو۔
6
तुझे गिर चश्म-ए-इबरत है तो आँधी और बगूले से तमाशा कर ग़ुबार-अफ़्शानी ख़ाक-ए-अज़ीज़ाँ को
اگر تمہاری آنکھیں غم کا آئینہ ہیں تو آندھی اور کبوتروں سے مل کر محبوب کی خاک پر دھول اڑانے کا تماشا کرو۔
7
लिबास-ए-मर्द-ए-मैदाँ जौहर-ए-ज़ाती किफ़ायत है नहीं पिरोए पोशिश मा'रके में तेग़-ए-उर्यां को
جنگ کے میدان کے مرد کا لباس، خودی کی کفایت کا جوہر، بازار میں بُنی ہوئی پوشش نہیں، بلکہ سینے کی تلوار ہے۔
8
हवा-ए-अब्र में गर्मी नहीं जो तू न हो साक़ी दम अफ़्सुर्दा कर दे मुंजमिद रशहात-ए-बाराँ को
شاعر کہتا ہے کہ اگر تم ساقی نہیں ہو تو ابر کی ہوا میں کوئی گرمی نہیں ہے؛ اور وہ کہتا ہے کہ میرا دم اس منجمد رَشحاتِ بَاران کو تھکا دے۔
9
जलें हैं कब की मिज़्गाँ आँसुओं की गर्म-जोशी से उस आब-ए-चश्म की जोशिश ने आतिश दी नीस्ताँ को
میری آنکھوں کی لالی کب آنسوؤں کی گرم جوشی سے جلی، اُس آنسو بھرے چشم کی جوش نے نِستاں کو آتِش دے دی۔
12
न सी चश्म-ए-तमा ख़्वान-ए-फ़लक पर ख़ाम-दसती से कि जाम-ए-ख़ून दे है हर सहर ये अपने मेहमाँ को
نہ سی چشمِ تما خوانِ فلک پر خام دستی سے کہ جامِ خون دے ہے ہر سحر یہ اپنے مہمان کو۔ یعنی، یہ نہ تو عاشق کی آنکھ ہے اور نہ ہی آسمان کا مے خانہ، بلکہ یہ تو ہر صبح اپنے مہمان کو کانپتے ہاتھوں سے خون کا جام پلاتا ہے۔
14
बने ना-वाक़िफ़-ए-शादी अगर हम बज़्म-ए-इशरत में दहान-ए-ज़ख़म-ए-दिल समझे जो देखा रू-ए-ख़ंदाँ को
اگر ہم جشن کے ماحول میں خوش نہ ہوں، تو ہم ہنسی کے چہرے کو دیکھ کر دل کے زخم کا منہ کیسے سمجھ سکتے ہیں۔
16
किसी के वास्ते रूस्वा-ए-आलम हो पे जी में रख कि मारा जाए जो ज़ाहिर करे उस राज़-ए-पिन्हाँ को
کسی کے واسطے دنیا کی बदनामी کا غم دل میں رکھ، کہ مارا جائے جو ظاہر کرے وہ رازِ پنہاں۔
17
गिरी पड़ती है बिजली ही तभी से ख़िर्मन गुल पर टक इक हंस मेरे रोने पर कि देखे तेरे दंदाँ को
बिजली का गुलशन पर गिरना और हंस का मेरे रोने पर देखना، یہ دو منظر ہیں جنہیں شاعر نے کسی خاص لمحے یا واقعے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔
19
वो तुख़्म-ए-सोख़्ता थे हम कि सर-सब्ज़ी न की हासिल मिलाया ख़ाक में दाना नमत हसरत से दहक़ाँ को
ہم سوکھے ہوئے لکڑی کے بیج تھے، جن میں ہریالی کی کامیابی نہیں ہوئی؛ ہم نے خاک میں دانے بکھیرے، جو چاہت اور ہنسی سے پیدا ہوئی ایک نعمت تھی۔
20
हुआ हूँ गुंचा-ए-पज़मुर्दा आख़िर फ़स्ल का तुझ बिन न दे बरबाद हसरत कुश्ता-ए-सर-दर-गरेबाँ को
تجھ بِن آخِر فصل کا میں گنچأے پزمردا ہو گیا ہوں، نہ دے بربادِ حسرت قشتۂ سر در گرباں کو।
21
ग़म-ओ-अंदोह-ओ-बे-ताबी अलम बे-ताक़ती हिरमाँ कहूँ ऐ हम-नशीं ता-चंद ग़म-हा-ए-फ़िरावाँ को
اے ہم نшин، میں غم، اندوہ، بے تابی، اور بے طاقت درد کی بات کرتا ہوں، ساتھ ہی چند بکھرے ہوئے غم بھی۔
22
गुल-ओ-सर्व-ओ-समन गिर जाएँगे मत सैर-ए-गुलशन कर मिला मत ख़ाक में उन बाग़ के रा'ना जवानाँ को
گل و سرو و سمن گر جائیں گے مت اور باغ کی سیر مت کرو؛ ان باغات کے نوجوان مالکان سے خاک میں ملنا مت۔
23
बहुत रोए जो हम ये आस्तीं रख मुँह पे ऐ बिजली न चश्म-ए-कम से देख उस यादगार-ए-चश्म-ए-गिर्याँ को
اے بجلی، ہم نے تیرے چہرے پر یہ آستین رکھ کر بہت روئے ہیں؛ کمزور نگاہوں سے ان آنکھوں کے نم آنسوؤں کی یاد کو نہ دیکھ۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

फ़लक ने गर किया रुख़्सत मुझे सैर-ए-बयाबाँ को | Sukhan AI