हवा-ए-अब्र में गर्मी नहीं जो तू न हो साक़ी
दम अफ़्सुर्दा कर दे मुंजमिद रशहात-ए-बाराँ को
“In the clouds of the wind, there is no warmth if you are not the cupbearer; make the frozen ecstasy of the rain weary.”
— میر تقی میر
معنی
شاعر کہتا ہے کہ اگر تم ساقی نہیں ہو تو ابر کی ہوا میں کوئی گرمی نہیں ہے؛ اور وہ کہتا ہے کہ میرا دم اس منجمد رَشحاتِ بَاران کو تھکا دے۔
تشریح
میر تقی میر نے اس شعر میں 'ساقی' کو زندگی کے تمام روحانی اور جذباتی سکون کا مرکز قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بادل کی ہوا میں کوئی گرمی نہیں جب تک آپ (ساقی) موجود نہ ہوں۔ یہ مصرعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل خوشی کسی بیرونی یا ٹھہری ہوئی لذت میں نہیں، بلکہ ساقی کے کرم سے حاصل ہوتی ہے۔ میر تقی میر نے بڑی نزاکت سے عشق اور وجودی حقیقت کو جوڑ دیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
