लिबास-ए-मर्द-ए-मैदाँ जौहर-ए-ज़ाती किफ़ायत है
नहीं पिरोए पोशिश मा'रके में तेग़-ए-उर्यां को
“The garment of the man of the battlefield, the essence of the self's sufficiency, is not the attire woven in the marketplace, but the sword of the chest.”
— میر تقی میر
معنی
جنگ کے میدان کے مرد کا لباس، خودی کی کفایت کا جوہر، بازار میں بُنی ہوئی پوشش نہیں، بلکہ سینے کی تلوار ہے۔
تشریح
یہ شعر ذاتی وقار اور اندرونی جوہر کی بات کرتا ہے۔ میر تقی میر کہتے ہیں کہ ایک انسان کی اصلی شان اس کے اپنے وجود میں ہوتی ہے، نہ کہ جنگ کے آلات یا ظاہری سجا و سامان میں۔ اپنا جوہر ہی کافی ہے، باہر سے تزئین کی کیا ضرورت!
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
