बने ना-वाक़िफ़-ए-शादी अगर हम बज़्म-ए-इशरत में
दहान-ए-ज़ख़म-ए-दिल समझे जो देखा रू-ए-ख़ंदाँ को
“If we are not aware of the joy in the gathering, how could we understand the wound of the heart, having seen the face of laughter?”
— میر تقی میر
معنی
اگر ہم جشن کے ماحول میں خوش نہ ہوں، تو ہم ہنسی کے چہرے کو دیکھ کر دل کے زخم کا منہ کیسے سمجھ سکتے ہیں۔
تشریح
یہ شعر مسکراہٹ کے دھوکے باز ہونے کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ اگر ہم جشن کی محفل میں مگن ہو جائیں، تو ہم ایک مسکراہٹ کو دل کے زخم سمجھ لیں گے۔ یہ بے وفائی اور غلط فہمی کے درد کو بیان کرتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
