غزل

اب وہ یہ کہہ رہے ہیں مری مان جائیے

اب وہ یہ کہہ رہے ہیں مری مان جائیے
داغ دہلوی· Ghazal· 22 shers· radif: जाइए

یہ غزل محبوب کے ناز و انداز، شوخی اور مان منوول کے دلکش جذبات کو سمیٹتی ہے۔ اس میں شاعر نے محبوب کے بدلے ہوئے مزاج اور پیار بھری چھیڑ چھاڑ کو نہایت لطیف اور زندہ دل پیرائے میں بیان کیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
अब वो ये कह रहे हैं मिरी मान जाइए अल्लाह तेरी शान के क़ुर्बान जाइए
اب وہ یہ کہہ رہے ہیں مری مان جائیے اللہ تیری شان کے قربان جائیے
اب وہ خود مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ میں ان کی بات مان لوں؛ اے اللہ، تیری قدرت اور عظمت کی شان پر قربان جائیے۔
2
बिगड़े हुए मिज़ाज को पहचान जाइए सीधी तरह न मानिएगा मान जाइए
بگڑے ہوئے مزاج کو پہچان جائیے سیدھی طرح نہ مانئے گا مان جائیے
میرے بگڑے ہوئے مزاج کو پہچانیے اور مان جائیے؛ چاہے سیدھی طرح نہ مانیں، مگر کسی نہ کسی طرح مان ضرور جائیے۔
3
किस का है ख़ौफ़ रोकने वाला ही कौन है हर रोज़ क्यूँ न जाइए मेहमान जाइए
کس کا ہے خوف روکنے والا ہی کون ہے ہر روز کیوں نہ جائیے مہمان جائیے
کس بات کا ڈر ہے اور روکنے والا ہی کون ہے؟ ہر روز کیوں نہ جایا جائے اور مہمان بن کر جایا جائے۔
4
महफ़िल में किस ने आप को दिल में छुपा लिया इतनों में कौन चोर है पहचान जाइए
محفل میں کس نے آپ کو دل میں چھپا لیا اتنوں میں کون چور ہے پہچان جائیے
اس محفل میں کسی نے آپ کو اپنے دل میں چھپا لیا ہے، اب اتنے سارے لوگوں میں پہچانیے کہ وہ چور کون ہے۔
5
हैं तेवरी में बल तो निगाहें फिरी हुई जाते हैं ऐसे आने से औसान जाइए
ہیں تیوری میں بل تو نگاہیں پھری ہوئی جاتے ہیں ایسے آنے سے اوسان جائیے
آپ کی پیشانی پر غصے کے بل ہیں اور نگاہیں پھری ہوئی ہیں، اس طرح آنے سے تو ہوش و حواس اڑ جاتے ہیں اس لیے بہتر ہے کہ آپ چلے ہی جائیں۔
6
दो मुश्किलें हैं एक जताने में शौक़ के पहले तो जान जाइए फिर मान जाइए
دو مشکلیں ہیں ایک جتانے میں شوق کے پہلے تو جان جائیے پھر مان جائیے
اپنے شوق کے اظہار میں دو دشواریاں ہیں: پہلی یہ کہ پہلے آپ اسے جانیں اور دوسری یہ کہ پھر اسے مان لیں۔
7
इंसान को है ख़ाना-ए-हस्ती में लुत्फ़ क्या मेहमान आइए तो पशेमान जाइए
انسان کو ہے خانۂ ہستی میں لطف کیا مہمان آئیے تو پشیمان جائیے
اس دنیا کے گھر میں انسان کے لیے کیا لطف ہے؟ انسان یہاں مہمان بن کر آتا ہے اور پچھتاتا ہوا رخصت ہو جاتا ہے۔
8
गो वादा-ए-विसाल हो झूटा मज़ा तो है क्यूँ कर न ऐसे झूट के क़ुर्बान जाइए
گو وعدۂ وصال ہو جھوٹا مزہ تو ہے کیوں کر نہ ایسے جھوٹ کے قربان جائیے
اگرچہ ملنے کا وعدہ جھوٹا ہی ہو مگر اس میں لطف تو ہے، ایسے جھوٹ پر کیوں نہ قربان ہوا جائے۔
9
रह जाए बा'द-ए-वस्ल भी चेटक लगी हुई कुछ रखिए कुछ निकाल के अरमान जाइए
رہ جائے بعد وصل بھی چیٹک لگی ہوئی کچھ رکھئے کچھ نکال کے ارمان جائیے
وصل کے بعد بھی ملنے کی تڑپ اور لگن باقی رہے، اس لیے رخصت ہوتے ہوئے کچھ تمنائیں پوری کیجیے اور کچھ باقی رہنے دیجیے۔
10
अच्छी कही कि ग़ैर के घर तक ज़रा चलो मैं आप का नहीं हूँ निगहबान जाइए
اچھی کہی کہ غیر کے گھر تک ذرا چلو میں آپ کا نہیں ہوں نگہبان جائیے
آپ نے خوب کہی کہ میں آپ کے ساتھ غیر کے گھر تک چلوں۔ میں آپ کا کوئی نگہبان یا چوکیدار نہیں ہوں، آپ خود ہی جائیے۔
11
आए हैं आप ग़ैर के घर से खड़े खड़े ये और को जताइए एहसान, जाइए
آئے ہیں آپ غیر کے گھر سے کھڑے کھڑے یہ اور کو جتایئے احسان، جائیے
آپ غیر کے گھر سے سیدھے آئے ہیں اور بس کھڑے کھڑے ہی مل رہے ہیں؛ یہ احسان کسی اور پر جتائیے اور یہاں سے تشریف لے جائیے۔
12
दोनों से इम्तिहान-ए-वफ़ा पर ये कह दिया मनवाइए रक़ीब को या मान जाइए
دونوں سے امتحان وفا پر یہ کہہ دیا منوائیے رقیب کو یا مان جائیے
جب دونوں نے وفاداری کا امتحان لیا تو میں نے یہی کہہ دیا کہ یا تو رقیب کو منا لیجیے یا خود مان جائیے۔
13
क्या बद-गुमानियाँ हैं उन्हें मुझ को हुक्म है घर में ख़ुदा के भी तो न मेहमान जाइए
کیا بدگمانیاں ہیں انہیں مجھ کو حکم ہے گھر میں خدا کے بھی تو نہ مہمان جائیے
انہیں مجھ پر اس قدر شک اور بدگمانی ہے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ مہمان بن کر بھی خدا کے گھر نہ جاؤں۔
14
क्या फ़र्ज़ है कि सब मिरी बातें क़ुबूल हैं सुन सुन के कुछ न मानिए कुछ मान जाइए
کیا فرض ہے کہ سب مری باتیں قبول ہیں سن سن کے کچھ نہ مانئے کچھ مان جائیے
کیا یہ لازمی ہے کہ آپ میری ہر بات قبول ہی کریں؟ سب کچھ سنیے، کچھ باتیں نہ مانیے مگر کچھ تو مان لیجیے۔
15
सौदाइयान-ए-ज़ुल्फ़ में कुछ तो लटक भी हो जन्नत में जाइए तो परेशान जाइए
سودائیان زلف میں کچھ تو لٹک بھی ہو جنت میں جائیے تو پریشان جائیے
محبوب کی زلف کے دیوانوں میں کوئی خاص انداز یا بانکپن ہونا چاہیے، اگر جنت میں بھی جانا ہو تو بکھرے ہوئے بالوں کے ساتھ جانا چاہیے۔
16
दिल को जो देख लो तो यही प्यार से कहो क़ुर्बान जाइए तिरे क़ुर्बान जाइए
دل کو جو دیکھ لو تو یہی پیار سے کہو قربان جائیے ترے قربان جائیے
اگر آپ میرے دل کو دیکھ لیں تو محبت سے بس یہی کہیں کہ ہم آپ پر قربان جائیں، آپ ہی پر نثار ہو جائیں۔
17
दिल को जो देख लो तो यही प्यार से कहो क़ुर्बान जाइए तिरे क़ुर्बान जाइए
دل کو جو دیکھ لو تو یہی پیار سے کہو قربان جائیے ترے قربان جائیے
اگر آپ میرے دل کو دیکھ لیں تو پیار سے بس یہی کہیں کہ ہم آپ پر قربان جائیں، آپ پر نثار ہو جائیں۔
18
जाने न दूँगा आप को बे-फ़ैसला हुए दिल के मुक़द्दमे को अभी छान जाइए
جانے نہ دوں گا آپ کو بے فیصلہ ہوئے دل کے مقدمے کو ابھی چھان جائیے
میں آپ کو بغیر فیصلہ کیے جانے نہیں دوں گا، دل کے اس مقدمے کی ابھی جانچ پڑتال کر کے اسے طے کر دیجیے۔
19
ये तो बजा कि आप को दुनिया से क्या ग़रज़ जाती है जिस की जान उसे जान जाइए
یہ تو بجا کہ آپ کو دنیا سے کیا غرض جاتی ہے جس کی جان اسے جان جائیے
یہ بات تو درست ہے کہ آپ کو دنیا سے کوئی غرض نہیں، لیکن جس شخص کی جان جا رہی ہے کم از کم اسے تو پہچان لیجیے۔
20
ग़ुस्से में हाथ से ये निशानी न गिर पड़े दामन में ले के मेरा गरेबान जाइए
غصے میں ہاتھ سے یہ نشانی نہ گر پڑے دامن میں لے کے میرا گریبان جائیے
غصے میں کہیں یہ نشانی آپ کے ہاتھ سے نہ گر جائے، اس لیے جاتے ہوئے میرا گریبان اپنے دامن میں سمیٹ کر لے جائیے۔
21
ये मुख़्तसर जवाब मिला अर्ज़-ए-वस्ल पर दिल मानता नहीं कि तिरी मान जाइए
یہ مختصر جواب ملا عرض وصل پر دل مانتا نہیں کہ تری مان جائیے
ملاقات کی میری التجا پر بس یہ مختصر سا جواب ملا کہ دل آمادہ نہیں ہوتا کہ آپ کی بات مان لی جائے۔
22
वो आज़मूदा-कार तो है गर वली नहीं जो कुछ बताए 'दाग़' उसे मान जाइए
وہ آزمودہ کار تو ہے گر ولی نہیں جو کچھ بتائے داغؔ اسے مان جائیے
اگرچہ داغؔ کوئی ولی نہیں ہیں لیکن وہ ایک تجربہ کار انسان ضرور ہیں، اس لیے وہ جو کچھ بھی کہیں اسے مان لینا چاہیے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.