“A furrow marks your brow, your eyes are turned away; such an arrival steals one's wits—pray, just leave and go your way!”
آپ کی پیشانی پر غصے کے بل ہیں اور نگاہیں پھری ہوئی ہیں، اس طرح آنے سے تو ہوش و حواس اڑ جاتے ہیں اس لیے بہتر ہے کہ آپ چلے ہی جائیں۔
اس شعر میں محبوب کی بے دلی اور زبردستی کی ملاقات پر عاشق کا دلکش شکوہ اور تیکھا انداز جھلکتا ہے۔ محبوب آیا تو ہے مگر ماتھے پر تیوری چڑھی ہے اور نظریں بھی چرائی ہوئی ہیں، جس سے ملنے کی خوشی کے بجائے عاشق کے اوسان خطا ہو رہے ہیں۔ شاعر بڑے ناز و نخرے سے کہتا ہے کہ اگر اتنی بے رخی اور ناگواری کے ساتھ آنا تھا، تو اس سے بہتر ہے کہ آپ لوٹ ہی جائیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
