“Though the promise of union be false, what sheer delight it brings; why should one not sacrifice one's soul for such an exquisite lie?”
اگرچہ ملنے کا وعدہ جھوٹا ہی ہو مگر اس میں لطف تو ہے، ایسے جھوٹ پر کیوں نہ قربان ہوا جائے۔
اس شعر میں عاشق محبت کے ایک دل فریب دھوکے پر دل و جان نچھاور کر رہا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ محبوب کا ملنے کا وعدہ کبھی وفا نہیں ہوگا، لیکن اس میٹھی آس اور انتظار کی لذت اتنی لاجواب ہے کہ وہ اس پر قربان ہونے کو تیار ہے۔ عشق میں کبھی کبھی ایک خوش نما جھوٹ بھی کڑوی حقیقت سے کہیں زیادہ راحت بخش اور خوبصورت محسوس ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
