“Let those maddened by her locks show some swagger and flair; if you must enter Paradise, go with disheveled hair.”
محبوب کی زلف کے دیوانوں میں کوئی خاص انداز یا بانکپن ہونا چاہیے، اگر جنت میں بھی جانا ہو تو بکھرے ہوئے بالوں کے ساتھ جانا چاہیے۔
یہ شعر عشق کی وارفتگی اور بے نیازی کا بڑا دلکش اظہار ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جو لوگ محبوب کی زلفوں کے اسیر ہیں، ان کے انداز میں بھی کچھ بانکپن اور ادا ہونی چاہیے۔ چنانچہ اگر جنت میں بھی جانا پڑے تو کسی پارسا کی طرح سنبھل کر جانے کی ضرورت نہیں، بلکہ عشق کی مستی میں بال بکھیرے اور پریشان حال ہو کر جانا چاہیے تاکہ عاشقی کی پہچان قائم رہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
