“Let a sweet longing linger on, even after our union has passed; fulfill some desires, withhold a few, before you leave at last.”
وصل کے بعد بھی ملنے کی تڑپ اور لگن باقی رہے، اس لیے رخصت ہوتے ہوئے کچھ تمنائیں پوری کیجیے اور کچھ باقی رہنے دیجیے۔
شاعر یہاں محبت کی ایک بڑی دلکش نفسیات بیان کر رہا ہے کہ اگر وصل میں سارے ہی ارمان نکل جائیں تو تڑپ ختم ہو جاتی ہے۔ لفظ 'چیٹک' اس میٹھے چٹخارے یا عادت کو کہتے ہیں جو دل کو بار بار بے چین کرتی رہے۔ اس لیے محبوب سے التجا ہے کہ کچھ حسرتیں پوری کرو اور کچھ ادھوری چھوڑ جاؤ، تاکہ تمہارے جانے کے بعد بھی انتظار کا لطف اور کشش برقرار رہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
