“To my plea for union, came this brief reply: / The heart will not consent that with yours I comply.”
ملاقات کی میری التجا پر بس یہ مختصر سا جواب ملا کہ دل آمادہ نہیں ہوتا کہ آپ کی بات مان لی جائے۔
عاشق نے بڑے ارمان کے ساتھ محبوب سے وصل کی التجا کی تھی، مگر جواب میں اتنی شائستہ اور کافرانہ نفی ملی جو دل کو چیر بھی گئی اور مسحور بھی کر گئی۔ محبوب نے دو ٹوک انکار کرنے کے بجائے سارا الزام اپنے دل کے ناز نخروں پر ڈال دیا کہ وہ تمہاری بات ماننے پر آمادہ ہی نہیں۔ اس شعر میں محبوب کی وہ دلکش ادا اور بے نیازی چھلکتی ہے، جہاں انکار بھی اس قدر نزاکت سے کیا گیا ہے کہ عاشق شکوہ بھی نہ کر سکے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
