“Put to the test of faithful love by both, I thus replied: either persuade the rival now, or yield and be reconciled.”
جب دونوں نے وفاداری کا امتحان لیا تو میں نے یہی کہہ دیا کہ یا تو رقیب کو منا لیجیے یا خود مان جائیے۔
اس شعر میں عاشق کی بیزاری، شوخی اور خودداری کا بڑا دلکش امتزاج ہے۔ جب محبوب اور رقیب دونوں طرف سے وفاداری کا امتحان لیا جانے لگا، تو عاشق نے بات طول دینے کے بجائے دو ٹوک فیصلہ سنا دیا۔ وہ شائستگی سے کہتا ہے کہ شک کا یہ کھیل اب ختم کیجیے؛ یا تو رقیب کو سمجھا کر راضی کر لیں، یا پھر میری سچی محبت پر اعتبار کرتے ہوئے خود مان جائیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
