“Whom is there to fear, who is there to bar the way? / Why not go every day—go as a guest, I say!”
کس بات کا ڈر ہے اور روکنے والا ہی کون ہے؟ ہر روز کیوں نہ جایا جائے اور مہمان بن کر جایا جائے۔
اس شعر میں عاشق کا ایک شوخ اور بے باک انداز جھلکتا ہے، جو زمانے کے خوف اور جھجک کو یکسر بھلا چکا ہے۔ اس میں بڑی پیاری رندانہ شرارت ہے؛ مہمان تو کبھی کبھار آتا ہے، مگر عاشق ہر روز محبوب کے آستانے پر مہمان بن کر جانے کی تدبیر سوچتا ہے تاکہ کوئی اسے روکنے کا جواز نہ ڈھونڈ سکے۔ یہ دل کی وہ معصوم ضد ہے جو محبوب کے دیدار کی خاطر تکلف اور سماجی بندشوں کے تمام پردے گرا دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
