کس کا ہے خوف روکنے والا ہی کون ہے ہر روز کیوں نہ جائیے مہمان جائیے

“Whom is there to fear, who is there to bar the way? / Why not go every day—go as a guest, I say!”

— داغ دہلوی
معنی

کس بات کا ڈر ہے اور روکنے والا ہی کون ہے؟ ہر روز کیوں نہ جایا جائے اور مہمان بن کر جایا جائے۔

تشریح

اس شعر میں عاشق کا ایک شوخ اور بے باک انداز جھلکتا ہے، جو زمانے کے خوف اور جھجک کو یکسر بھلا چکا ہے۔ اس میں بڑی پیاری رندانہ شرارت ہے؛ مہمان تو کبھی کبھار آتا ہے، مگر عاشق ہر روز محبوب کے آستانے پر مہمان بن کر جانے کی تدبیر سوچتا ہے تاکہ کوئی اسے روکنے کا جواز نہ ڈھونڈ سکے۔ یہ دل کی وہ معصوم ضد ہے جو محبوب کے دیدار کی خاطر تکلف اور سماجی بندشوں کے تمام پردے گرا دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.