“Fresh from the rival's door, you pause here on your feet; go bestow this favor on someone else—take your leave, depart.”
آپ غیر کے گھر سے سیدھے آئے ہیں اور بس کھڑے کھڑے ہی مل رہے ہیں؛ یہ احسان کسی اور پر جتائیے اور یہاں سے تشریف لے جائیے۔
اس شعر میں محبوب کی بے رخی پر عاشق کی غیرت اور چوٹ کھائی ہوئی انا کا دلکش اظہار ہے۔ محبوب رقیب کے گھر وقت گزار کر محض خانہ پری کے لیے سرسری طور پر کھڑے کھڑے چلا آیا ہے، اور انداز ایسا ہے جیسے کوئی احسان کر رہا ہو۔ عاشق اس جھوٹی عنایت کو پائے حقارت سے ٹھکراتے ہوئے طنز سے کہتا ہے کہ یہ احسان کسی اور پر جتائیے اور تشریف لے جائیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
