“Now they say to me, 'Relent, and listen to my plea!' / O Allah, to the wonders of Your glory, a sacrifice I would be!”
اب وہ خود مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ میں ان کی بات مان لوں؛ اے اللہ، تیری قدرت اور عظمت کی شان پر قربان جائیے۔
اس شعر میں ایک بڑا دلکش طنز اور وقت کے بدلتے ہوئے رنگوں پر حیرت کا اظہار ہے۔ جو محبوب کل تک سراپا بے نیازی اور ضد بنا بیٹھا تھا، آج وہی اتنی عاجزی سے اپنی بات منوانے کی التجائیں کر رہا ہے۔ شاعر اس اچانک بدلاؤ پر مسکرا اٹھتا ہے اور خدا کی شان پر قربان جاتا ہے جس نے چشمِ زدن میں بازی پلٹ کر رکھ دی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
