“He may not be a holy saint, yet he is worldly-wise; whatever counsel 'Dagh' imparts, believe it and comply.”
اگرچہ داغؔ کوئی ولی نہیں ہیں لیکن وہ ایک تجربہ کار انسان ضرور ہیں، اس لیے وہ جو کچھ بھی کہیں اسے مان لینا چاہیے۔
داغؔ اس شعر میں بڑی شوخی اور پختگی کے ساتھ اپنی بات کا وزن قائم کر رہے ہیں۔ وہ مسکرا کر مانتے ہیں کہ وہ کوئی ولی یا بزرگ نہیں ہیں، مگر زندگی اور محبت کے ہر نشیب و فراز سے اچھی طرح گزر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا مشورہ کسی مذہبی وعظ پر نہیں بلکہ زندگی کے ٹھوس تجربات پر مبنی ہے، اس لیے اسے بلا جھجھک قبول کر لینا چاہیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
