“Lest in your wrath this keepsake slip from your hand, gather my torn collar into your hem as you leave.”
غصے میں کہیں یہ نشانی آپ کے ہاتھ سے نہ گر جائے، اس لیے جاتے ہوئے میرا گریبان اپنے دامن میں سمیٹ کر لے جائیے۔
اس خوبصورت شعر میں عاشق اپنے محبوب کے طیش اور غصے کو بھی ایک انمول تحفہ بنا دیتا ہے۔ جب محبوب خفگی کے عالم میں اس کا گریبان پکڑتا یا چاک کرتا ہے، تو عاشق گلہ کرنے کے بجائے التجا کرتا ہے کہ کہیں غصے کی جلدی میں یہ نشانی ہاتھ سے گر نہ جائے۔ وہ بڑی نزاکت سے کہتا ہے کہ اسے سنبھال کر اپنے دامن میں سمیٹ لیجیے، کیونکہ عشق کی دنیا میں محبوب کی برہمی اور اس کا دیا ہوا ہر زخم بھی کسی تبرک کی طرح عزیز ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
