غزل
اگر نہ زہرہ جبینوں کے درمیاں گزرے
اگر نہ زہرہ جبینوں کے درمیاں گزرے
یہ غزل حسن و عشق کی دلکشی اور اس کے اضطراب کی عکاسی کرتی ہے، جس میں شاعر محبوب کے بغیر زندگی کے ادھورے پن کا اعتراف کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ ان لمحوں کے تلخ و شیریں احساس کو بیان کرتی ہے جو قربت کے باوجود دل و جان کے لیے آزمائش بن جاتے ہیں۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
अगर न ज़ोहरा-जबीनों के दरमियाँ गुज़रे
तो फिर ये कैसे कटे ज़िंदगी कहाँ गुज़रे
اگر نہ زہرہ جبینوں کے درمیاں گزرے
تو پھر یہ کیسے کٹے زندگی کہاں گزرے
اگر زندگی خوبصورت اور روشن پیشانی والے محبوبوں کے درمیان نہ گزرے، تو پھر یہ کیسے کٹے اور کہاں بسر ہو؟
2
जो तेरे आरिज़ ओ गेसू के दरमियाँ गुज़रे
कभी कभी वही लम्हे बला-ए-जाँ गुज़रे
جو تیرے عارض و گیسو کے درمیاں گزرے
کبھی کبھی وہی لمحے بلائے جاں گزرے
جو لمحات تمہارے رخسار اور زلفوں کے درمیان گزرے تھے، کبھی کبھی وہی لمحے جان کے لیے مصیبت اور عذاب بن جاتے ہیں۔
3
मुझे ये वहम रहा मुद्दतों कि जुरअत-ए-शौक़
कहीं न ख़ातिर-ए-मासूम पर गिराँ गुज़रे
مجھے یہ وہم رہا مدتوں کہ جرأت شوق
کہیں نہ خاطر معصوم پر گراں گزرے
مجھے ایک طویل عرصے تک یہ خوف اور وہم رہا کہ کہیں میری محبت کی جرات اور اظہار آپ کے معصوم دل پر بوجھ نہ بن جائے اور اسے ناگوار نہ گزرے۔
4
हर इक मक़ाम-ए-मोहब्बत बहुत ही दिलकश था
मगर हम अहल-ए-मोहब्बत कशाँ कशाँ गुज़रे
ہر اک مقام محبت بہت ہی دل کش تھا
مگر ہم اہل محبت کشاں کشاں گزرے
اگرچہ محبت کا ہر مقام بہت دلکش تھا، لیکن ہم اہل محبت وہاں سے تکلیف اور مجبوری کے عالم میں کھنچے کھنچے گزرے۔
5
जुनूँ के सख़्त मराहिल भी तेरी याद के साथ
हसीं हसीं नज़र आए जवाँ जवाँ गुज़रे
جنوں کے سخت مراحل بھی تیری یاد کے ساتھ
حسیں حسیں نظر آئے جواں جواں گزرے
تیری یاد کے سہارے عشق و جنون کے کٹھن اور دشوار ترین مراحل بھی خوبصورت نظر آئے اور بڑی تازگی اور آسانی کے ساتھ گزر گئے۔
6
मिरी नज़र से तिरी जुस्तुजू के सदक़े में
ये इक जहाँ ही नहीं सैंकड़ों जहाँ गुज़रे
مری نظر سے تری جستجو کے صدقے میں
یہ اک جہاں ہی نہیں سینکڑوں جہاں گزرے
تمہاری تلاش اور جستجو کے صدقے میں میری نظروں کے سامنے سے صرف یہی ایک دنیا نہیں، بلکہ سینکڑوں جہان گزر گئے ہیں۔
7
हुजूम-ए-जल्वा में परवाज़-ए-शौक़ क्या कहना
कि जैसे रूह सितारों के दरमियाँ गुज़रे
ہجوم جلوہ میں پرواز شوق کیا کہنا
کہ جیسے روح ستاروں کے درمیاں گزرے
جلووں کے ہجوم میں شوق اور تمنا کی یہ پرواز کتنی لاجواب ہے، جیسے کوئی روح ستاروں کے درمیان سے گزر رہی ہو۔
8
ख़ता-मुआफ़ ज़माने से बद-गुमाँ हो कर
तिरी वफ़ा पे भी क्या क्या हमें गुमाँ गुज़रे
خطا معاف زمانے سے بد گماں ہو کر
تری وفا پہ بھی کیا کیا ہمیں گماں گزرے
میری خطا معاف کرنا، زمانے سے بدگمان ہو کر مجھے تمہاری وفا پر بھی نہ جانے کیا کیا شک گزرے۔
9
मुझे था शिकवा-ए-हिज्राँ कि ये हुआ महसूस
मिरे क़रीब से हो कर वो ना-गहाँ गुज़रे
مجھے تھا شکوۂ ہجراں کہ یہ ہوا محسوس
مرے قریب سے ہو کر وہ نا گہاں گزرے
میں ابھی جدائی کا شکوہ کر ہی رہا تھا کہ اچانک مجھے احساس ہوا کہ وہ غیر متوقع طور پر میرے قریب سے گزرے ہیں۔
10
रह-ए-वफ़ा में इक ऐसा मक़ाम भी आया
कि हम ख़ुद अपनी तरफ़ से भी बद-गुमाँ गुज़रे
رہ وفا میں اک ایسا مقام بھی آیا
کہ ہم خود اپنی طرف سے بھی بد گماں گزرے
وفاداری کے راستے میں ایک ایسا مقام بھی آیا جب ہم خود اپنی ہی ذات اور وفاداری پر شک کرنے لگے۔
11
ख़ुलूस जिस में हो शामिल वो दौर-ए-इश्क़-ओ-हवस
न राएगाँ कभी गुज़रा न राएगाँ गुज़रे
خلوص جس میں ہو شامل وہ دور عشق و ہوس
نہ رائیگاں کبھی گزرا نہ رائیگاں گزرے
عشق و محبت کا وہ زمانہ جس میں سچا خلوص شامل ہو، وہ نہ تو کبھی رائیگاں گزرا ہے اور نہ کبھی ضائع ہوگا۔
12
उसी को कहते हैं जन्नत उसी को दोज़ख़ भी
वो ज़िंदगी जो हसीनों के दरमियाँ गुज़रे
اسی کو کہتے ہیں جنت اسی کو دوزخ بھی
وہ زندگی جو حسینوں کے درمیاں گزرے
وہ زندگی جو خوبصورت لوگوں کے درمیان گزرتی ہے، اسی کو جنت بھی کہتے ہیں اور اسی کو دوزخ بھی۔
13
बहुत हसीन मनाज़िर भी हुस्न-ए-फ़ितरत के
न जाने आज तबीअत पे क्यूँ गिराँ गुज़रे
بہت حسین مناظر بھی حسن فطرت کے
نہ جانے آج طبیعت پہ کیوں گراں گزرے
معلوم نہیں کیوں آج فطرت کے انتہائی دلکش اور خوبصورت مناظر بھی میری طبیعت پر اتنے بوجھل اور ناگوار گزرے۔
14
वो जिन के साए से भी बिजलियाँ लरज़ती थीं
मिरी नज़र से कुछ ऐसे भी आशियाँ गुज़रे
وہ جن کے سائے سے بھی بجلیاں لرزتی تھیں
مری نظر سے کچھ ایسے بھی آشیاں گزرے
میری نظر سے کچھ ایسے آشیانے بھی گزرے ہیں جن کے سائے سے بھی بجلیاں کانپتی تھیں۔
15
मिरा तो फ़र्ज़ चमन-बंदी-ए-जहाँ है फ़क़त
मिरी बला से बहार आए या ख़िज़ाँ गुज़रे
مرا تو فرض چمن بندی جہاں ہے فقط
مری بلا سے بہار آئے یا خزاں گزرے
میرا فرض تو صرف دنیا کے اس چمن کو سنوارنا ہے، مجھے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ بہار آئے یا خزاں گزر جائے۔
16
कहाँ का हुस्न कि ख़ुद इश्क़ को ख़बर न हुई
रह-ए-तलब में कुछ ऐसे भी इम्तिहाँ गुज़रे
کہاں کا حسن کہ خود عشق کو خبر نہ ہوئی
رہ طلب میں کچھ ایسے بھی امتحاں گزرے
وہ کیسا حسن تھا کہ خود عشق کو بھی اس کا ہوش نہ رہا؛ تلاش اور طلب کی راہ میں ایسے بھی امتحانات پیش آئے۔
17
भरी बहार में ताराजी-ए-चमन मत पूछ
ख़ुदा करे न फिर आँखों से वो समाँ गुज़रे
بھری بہار میں تاراجی چمن مت پوچھ
خدا کرے نہ پھر آنکھوں سے وہ سماں گزرے
بھری بہار میں باغ کی بربادی کا حال مت پوچھو؛ خدا کرے کہ وہ دل دہلا دینے والا منظر پھر کبھی میری آنکھوں کے سامنے نہ آئے۔
18
कोई न देख सका जिन को वो दिलों के सिवा
मुआमलात कुछ ऐसे भी दरमियाँ गुज़रे
کوئی نہ دیکھ سکا جن کو وہ دلوں کے سوا
معاملات کچھ ایسے بھی درمیاں گزرے
ہمارے درمیان کچھ ایسے معاملات بھی پیش آئے جنہیں دلوں کے سوا کوئی اور کبھی نہ دیکھ سکا۔
19
कभी कभी तो इसी एक मुश्त-ए-ख़ाक के गिर्द
तवाफ़ करते हुए हफ़्त आसमाँ गुज़रे
کبھی کبھی تو اسی ایک مشت خاک کے گرد
طواف کرتے ہوئے ہفت آسماں گزرے
کبھی کبھی تو اسی ایک مٹھی خاک کے گرد ساٹوں آسمان طواف کرتے ہوئے گزرے ہیں۔
20
बहुत हसीन सही सोहबतें गुलों की मगर
वो ज़िंदगी है जो काँटों के दरमियाँ गुज़रे
بہت حسین سہی صحبتیں گلوں کی مگر
وہ زندگی ہے جو کانٹوں کے درمیاں گزرے
پھولوں کی صحبت چاہے کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، مگر اصل زندگی وہی ہے جو کانٹوں کے درمیان گزرے۔
21
अभी से तुझ को बहुत नागवार हैं हमदम
वो हादसात जो अब तक रवाँ-दवाँ गुज़रे
ابھی سے تجھ کو بہت ناگوار ہیں ہمدم
وہ حادثات جو اب تک رواں دواں گزرے
اے دوست، تمہیں ابھی سے وہ حادثات اتنے ناگوار لگ رہے ہیں جو اب تک صرف تیزی اور روانی کے ساتھ گزرے ہیں۔
22
जिन्हें कि दीदा-ए-शाइर ही देख सकता है
वो इंक़िलाब तिरे सामने कहाँ गुज़रे
جنہیں کہ دیدۂ شاعر ہی دیکھ سکتا ہے
وہ انقلاب ترے سامنے کہاں گزرے
وہ انقلابات جن کو صرف ایک شاعر کی نظر ہی دیکھ سکتی ہے، وہ بھلا تمہارے سامنے کب گزرے ہیں۔
23
बहुत अज़ीज़ है मुझ को उन्हें क्या याद 'जिगर'
वो हादसात-ए-मोहब्बत जो ना-गहाँ गुज़रे
بہت عزیز ہے مجھ کو انہیں کیا یاد جگرؔ
وہ حادثات محبت جو نا گہاں گزرے
اے جگرؔ، محبت کے وہ حادثات جو اچانک پیش آئے تھے مجھے بہت عزیز ہیں، لیکن بھلا محبوب کو وہ کیا یاد ہوں گے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
