“Ask not of the garden laid waste in the very flush of spring; may God grant that never again does such a sight pass before my eyes.”
بھری بہار میں باغ کی بربادی کا حال مت پوچھو؛ خدا کرے کہ وہ دل دہلا دینے والا منظر پھر کبھی میری آنکھوں کے سامنے نہ آئے۔
ذرا تصور کریں کہ ایک گلشن اپنے پورے جوبن پر ہو اور اچانک بے دردی سے اجاڑ دیا جائے—یہ شعر اسی المناک صدمے کی دلدوز تصویر کشی کرتا ہے۔ یہاں 'بھری بہار میں چمن کی تاراجی' دراصل خوشیوں، محبت یا کسی جیتے جاگتے معاشرے کے عروج پر اچانک برباد ہو جانے کا استعارہ ہے۔ شاعر اس تباہی کے منظر سے اس قدر دہل چکا ہے کہ دعا مانگتا ہے کہ زندگی میں ایسا دردناک سماں دوبارہ کبھی آنکھوں کے سامنے نہ آئے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
