“My duty is merely to tend the garden of this world; what care I whether spring arrives or autumn passes by?”
میرا فرض تو صرف دنیا کے اس چمن کو سنوارنا ہے، مجھے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ بہار آئے یا خزاں گزر جائے۔
اس شعر میں شاعر خود کو ایک بے لوث باغبان کے روپ میں پیش کرتا ہے، جس کا مقصد محض اس کائنات کے گلشن کو سنوارنا اور زندگی میں خوبصورتی بکھیرنا ہے۔ اسے اس بات کی مطلق پروا نہیں کہ بدلے میں اس کے حصے بہار کا انعام آئے گا یا خزاں کی ویرانی سے واسطہ پڑے گا۔ یہ شعر صلے اور انجام کی پروا کیے بغیر، خالص نیت سے اپنے فرض کو نبھاتے رہنے کا ایک لاجواب فلسفہ بیان کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
