“At times, around this very handful of dust, all seven heavens have passed in holy circumambulation.”
کبھی کبھی تو اسی ایک مٹھی خاک کے گرد ساٹوں آسمان طواف کرتے ہوئے گزرے ہیں۔
'مشتِ خاک' انسان کے فانی اور عاجز وجود کا کلاسیکی استعارہ ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان بظاہر مٹی کا ایک حقیر سا پتلا ہے، مگر عشق، خودی یا روحانی بلندی کے نایاب لمحوں میں اس کا مقام اتنا بلند ہو جاتا ہے کہ کائنات کے ساتوں آسمان عقیدت سے اس کے گرد طواف کرنے لگتے ہیں۔ یہ شعر انسان کی ظاہری کم مائیگی کے پیچھے چھپی اس کی لا زوال عظمت اور قدروقیمت کا بے حد خوبصورت بیان ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
