“Along the path of faithfulness, there came a stage so fraught, that we grew deeply doubtful even of our own heart.”
وفاداری کے راستے میں ایک ایسا مقام بھی آیا جب ہم خود اپنی ہی ذات اور وفاداری پر شک کرنے لگے۔
محبت کے سفر میں عموماً انسان کو زمانے کے ستم یا محبوب کی بے رخی کا گلہ ہوتا ہے، لیکن یہاں جگر مرادآبادی ایک نہایت نازک اور انوکھے موڑ کی بات کر رہے ہیں۔ وفا کی اس راہ میں آزمائش اس حد تک کڑی ہو گئی کہ عاشق کو غیروں کے بجائے خود اپنی نیت، اپنے خلوص اور اپنی وفاداری پر شبہ ہونے لگا۔ یہ شعر عشق کی اس پُرپیچ کیفیت کی تصویر کشی کرتا ہے جہاں انسان کا سب سے بڑا معرکہ کسی اور سے نہیں بلکہ اپنی ہی ذات سے برپا ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
