کہاں کا حسن کہ خود عشق کو خبر نہ ہوئی رہ طلب میں کچھ ایسے بھی امتحاں گزرے

“What manner of beauty was that, of which Love itself remained unaware? Along the path of yearning, through such trials too did we fare.”

— جگر مرادآبادی
معنی

وہ کیسا حسن تھا کہ خود عشق کو بھی اس کا ہوش نہ رہا؛ تلاش اور طلب کی راہ میں ایسے بھی امتحانات پیش آئے۔

تشریح

اس خوبصورت شعر میں شاعر عشق کے اس اعلیٰ مقام کا ذکر کر رہا ہے جہاں پہنچ کر محبوب کے حسن کا احساس بھی ماند پڑ جاتا ہے۔ راہِ طلب میں ایسی کٹھن آزمائشیں آئیں کہ عاشق اپنی ہی دھن اور تڑپ میں اس قدر فنا ہو گیا کہ اسے اس حسن کی خبر ہی نہ رہی جس سے یہ سفر شروع ہوا تھا۔ یہ شعر بتاتا ہے کہ جب محبت اپنی انتہا کو چھوتی ہے تو ظاہری دلکشی بےمعنی ہو جاتی ہے اور صرف عشق کی خالص سچائی باقی رہ جاتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.