“Those revolutions that only a poet's eye can behold / How could such upheavals ever unfold before your gaze?”
وہ انقلابات جن کو صرف ایک شاعر کی نظر ہی دیکھ سکتی ہے، وہ بھلا تمہارے سامنے کب گزرے ہیں۔
یہ شعر دل اور روح کی ان پوشیدہ تبدیلیوں کا احاطہ کرتا ہے جنہیں صرف ایک حساس اور دردمند نگاہ ہی بھانپ سکتی ہے۔ 'دیدۂ شاعر' دراصل باطن کا وہ آئینہ ہے جو خاموش جذباتی طوفانوں، نظریاتی تبدیلیوں اور دلوں کے زیر و بم کو بخوبی دیکھ لیتا ہے۔ شاعر اپنے مخاطب سے شکوہ کناں انداز میں کہتا ہے کہ تمہاری نگاہیں تو صرف ظاہری ہنگاموں تک محدود رہیں، وہ گہرے انقلابات جو روح پر بیت گئے، بھلا تمہاری بے خبر نظروں سے کیسے گزرتے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
