اگر نہ زہرہ جبینوں کے درمیاں گزرے تو پھر یہ کیسے کٹے زندگی کہاں گزرے

“If it is not spent amidst radiant-browed beauties, how then could this life pass, and where?”

— جگر مرادآبادی
معنی

اگر زندگی خوبصورت اور روشن پیشانی والے محبوبوں کے درمیان نہ گزرے، تو پھر یہ کیسے کٹے اور کہاں بسر ہو؟

تشریح

اس شعر میں شاعر بڑی دلکشی سے پوچھتے ہیں کہ اگر زندگی حسین اور پرنور چہروں کی صحبت میں نہ گزرے، تو پھر اس کا کٹنا کیسے ممکن ہے۔ 'زہرہ جبیں' دراصل سیارہ زہرہ کی طرح دمکتی پیشانی اور روشن محبوب کے لیے ایک خوبصورت استعارہ ہے جو دنیا کی بے کیفی کو مٹا دیتا ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ حسن، محبت اور دلکش رفاقت کے بغیر یہ ہستی ایک بے رنگ اور بوجھل مسافت کے سوا کچھ نہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 23Next →