“Before my eyes have passed such nests as well, at whose mere shadow even lightnings used to tremble.”
میری نظر سے کچھ ایسے آشیانے بھی گزرے ہیں جن کے سائے سے بھی بجلیاں کانپتی تھیں۔
اردو شاعری میں بجلی کو ہمیشہ پرندے کے کمزور آشیانے کو جلا دینے والی بے رحم قوت سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہاں شاعر نے اس روایتی استعارے کو الٹ کر ایسے پُروقار اور بارعب آشیانوں کا نقشہ کھینچا ہے جن کے سائے سے بھی قہر ڈھانے والی بجلیاں لرز جاتی تھیں۔ اس خیال میں جہاں عظمتِ رفتہ کی جھلک ہے، وہیں یہ اداس احساس بھی پنہاں ہے کہ وقت کی گردش نے اتنے ناقابلِ تسخیر ٹھکانوں کو بھی محض ماضی کا قصہ بنا دیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
