“They call it paradise, and they name it hell as well—that life which is spent amidst the company of the fair.”
وہ زندگی جو خوبصورت لوگوں کے درمیان گزرتی ہے، اسی کو جنت بھی کہتے ہیں اور اسی کو دوزخ بھی۔
شاعر نے اس شعر میں حسن اور عشق کی دلکش کشمکش کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ حسینوں کے جھرمٹ میں رہنا اس لیے جنت ہے کہ ان کی قربت روح کو سرور اور بے پناہ خوشی بخشتی ہے، مگر یہی صحبت دوزخ بن جاتی ہے جب بے رخی، جدائی اور تڑپ کا عذاب جھیلنا پڑے۔ سیدھی سی بات ہے کہ جہاں بے حساب حسن اور دلکشی ہوگی، وہاں درد اور بے چینی کی تپش کا ہونا بھی ناگزیر ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
