“The moments that once passed between your cheek and tress, / Return at times to strike the soul with mortal distress.”
جو لمحات تمہارے رخسار اور زلفوں کے درمیان گزرے تھے، کبھی کبھی وہی لمحے جان کے لیے مصیبت اور عذاب بن جاتے ہیں۔
اس شعر میں شاعر نے قربت کی دلکش یادوں اور ہجر کی جان لیوا کیفیت کا بڑا درد بھرا نقشہ کھینچا ہے۔ محبوب کے دمکتے رخسار اور سیاہ زلفوں کے درمیان بیتے ہوئے لمحے کبھی زندگی کی سب سے بڑی راحت تھے، مگر آج تنہائی میں وہی یادیں عذابِ جاں بن گئی ہیں۔ شاعر نے بڑی نزاکت سے سمجھایا ہے کہ عشق کے سب سے حسین اور شیریں لمحے بھی جدائی کے بعد دل کے لیے سب سے گہرے گھاؤ ثابت ہوتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
