جو تیرے عارض و گیسو کے درمیاں گزرے کبھی کبھی وہی لمحے بلائے جاں گزرے

“The moments that once passed between your cheek and tress, / Return at times to strike the soul with mortal distress.”

— جگر مرادآبادی
معنی

جو لمحات تمہارے رخسار اور زلفوں کے درمیان گزرے تھے، کبھی کبھی وہی لمحے جان کے لیے مصیبت اور عذاب بن جاتے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے قربت کی دلکش یادوں اور ہجر کی جان لیوا کیفیت کا بڑا درد بھرا نقشہ کھینچا ہے۔ محبوب کے دمکتے رخسار اور سیاہ زلفوں کے درمیان بیتے ہوئے لمحے کبھی زندگی کی سب سے بڑی راحت تھے، مگر آج تنہائی میں وہی یادیں عذابِ جاں بن گئی ہیں۔ شاعر نے بڑی نزاکت سے سمجھایا ہے کہ عشق کے سب سے حسین اور شیریں لمحے بھی جدائی کے بعد دل کے لیے سب سے گہرے گھاؤ ثابت ہوتے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.