“Already you find them so hard to endure, dear friend— Those trials that till now have merely swept swiftly past.”
اے دوست، تمہیں ابھی سے وہ حادثات اتنے ناگوار لگ رہے ہیں جو اب تک صرف تیزی اور روانی کے ساتھ گزرے ہیں۔
اس شعر میں شاعر اپنے ہمدم کو بڑی اپنائیت اور دلسوزی کے ساتھ زندگی کی تلخ حقیقتوں کا آئینہ دکھا رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ابھی تو وہ آزمائشیں تھیں جو روانی کے ساتھ، کسی تیز جھونکے کی مانند پاس سے گزر گئیں، اور تم ابھی سے بے دل ہو کر انہیں ناگوار سمجھنے لگے۔ دراصل یہ ایک مشفقانہ تنبیہ ہے کہ اگر ان عارضی اور تیز رفتار حادثات نے ہی حوصلہ ڈانواں ڈول کر دیا، تو آگے آنے والے گہرے اور سنگین طوفانوں کی تاب تم کیسے لاؤ گے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
