“I was lamenting the sorrow of separation when suddenly I felt / that passing so close beside me, all at once, they had drifted by.”
میں ابھی جدائی کا شکوہ کر ہی رہا تھا کہ اچانک مجھے احساس ہوا کہ وہ غیر متوقع طور پر میرے قریب سے گزرے ہیں۔
اس شعر میں شاعر نے فراق کا ایک بڑا نازک اور درد بھرا پہلو دکھایا ہے۔ وہ محبوب کی دوری کا رونا رو ہی رہے تھے کہ اچانک محبوب ان کے بالکل قریب سے یوں بے نیازی سے گزر گئے جیسے ہوا کا کوئی جھونکا چھو کر نکل گیا ہو۔ یہ لمحاتی قربت وصل کی خوشی بننے کے بجائے ہجر کو اور عیاں کر گئی، کیونکہ پاس سے بے رخی کے ساتھ گزر جانا، میلوں دور رہنے سے بھی زیادہ دل کو اداس کر دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
