غزل

کیا داد خواہ ہو کوئی اُس کے قتیل کا

کیا داد خواہ ہو کوئی اُس کے قتیل کا

Source: Kulliyat-e-Aatish (Matba Munshi Naval Kishore, Lucknow) · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
क्या दाद ख़्वाह हो कोई उस के क़तील का आशिक़ के ख़ून को हुक्म है आब-ए-सबील का
کیا داد خواہ ہو کوئی اُس کے قتیل کا عاشق کے خون کو حکم ہے آبِ سبیل کا
اُس کے مارے ہوئے کے لیے کون انصاف طلب کرے؟ عاشق کے خون کو تو سبیل کے مفت پانی کی طرح بہا دینے کا حکم ہے۔
2
तय किसतरह से होवे रह-ए-इश्क़ देखिए संग-ए-निशान का दख़्ल हो हमें न मील का
طے کسطرح سے ہووے رہِ عشق دیکھیے سنگ نشان کا دخل ہو ہمین نہ میل کا
دیکھیے کہ عشق کا راستہ کس طرح طے ہو، جبکہ ہمارے لیے نہ کوئی میل کا پتھر ہے اور نہ کوئی نشان کا پتھر۔
3
राह-ए-अदम को जाते हैं ख़ामोश क़ाफ़िले हर जरस है सुरमा ग़ुबार इस सबील का
راہ عدم کو جاتے ہین خاموش قافلے ہر جرس ہے سُرمہ غبار اس سبیل کا
خاموش قافلے عدم کی راہ کی طرف جا رہے ہیں، اور ہر جرس اس راہ کے غبار کا سُرمہ بنی ہوئی ہے۔
4
आवारा हूँ मैं गोर की मंज़िल के शौक़ में रहज़न सुलूक मुझसे करेगा दलील का
آوارہ ہون مین گور کی منزل کے شوق مین رہزن سُلوک مجھسے کریگا دلیل کا
میں قبر کی منزل کے شوق میں آوارہ پھرتا ہوں؛ رہزن مجھ سے دلیل کے سے سلوک کرے گا۔
5
ले जाए ख़त-ए-शौक़ कबूतर ग़रीब क्या वाँ जिस जगह मक़ाम नहीं जिब्राईल का
لے جائے خط شوق کبوتر غریب کیا وان جس جگہ مقام نہین جبرئیل کا
بے چارا کبوتر محبت کا خط وہاں کیسے لے جائے، اس جگہ جہاں جبرئیل تک کا کوئی مقام نہیں ہے۔
6
मोहताज ख़िज़्र-ए-राह नहीं तेरी राह में करता है काम शौक़ हमारा दलील का
محتاج خضر راہ نہین تیری راہ مین کرتا ہے کام شوق ہمارا دلیل کا
تیری راہ میں مجھے خضرِ راہ کی حاجت نہیں؛ میرا شوق ہی رہنما کا کام کر دیتا ہے۔
7
शब को चराग़ की नहीं रहरो को एहतियाज हर ज़र्रा आफ़्ताब है तेरी सबील का
شب کو چراغ کی نہین رہرو کو احتیاج ہر ذرّہ آفتاب ہے تیری سبیل کا
رات کو راہ چلنے والوں کو چراغ کی ضرورت نہیں، کیونکہ تیرے راستے کا ہر ذرّہ سورج کی طرح روشن ہے۔
8
यूसुफ़ की जुस्तुजू में रवाना हैं क़ाफ़िले नालाँ जरस हैं शोर है कोस-ए-रहील का
یوسف کی جستجو مین روانہ ہین قافلے نالان جرس ہین شور ہے کوسِ رحیل کا
یوسف کی تلاش میں قافلے روانہ ہو چکے ہیں؛ گھنٹیاں نالہ کر رہی ہیں اور کوچ کا نقارہ زور سے بج رہا ہے۔
9
आजिज़ नवाज़ दूसरा तुझसा कोई नहीं रंजूर का अनीस है हमदम अलील का
عاجز نواز دوسرا تجھسا کوئی نہین رنجور کا انیس ہے ہمدم علیل کا
تجھ جیسا بے کسوں پر مہربانی کرنے والا دوسرا کوئی نہیں؛ تو دکھی کا دوست اور بیمار کا ہمدم ہے۔
10
बाग़-ओ-बहार आतिश-ए-नमरूद को किया मुश्किल के वक़्त हामी हुआ तू ख़लील का
باغ و بہار آتش نمرود کو کیا مشکل کے وقت حامی ہوا تو خلیل کا
تو نے نمرود کی آگ کو باغ و بہار بنا دیا؛ مشکل کے وقت تو اپنے دوست خلیل کا مددگار ہوا۔
11
मूसा को तेरे हुक्म से दरिया ने राह दी फ़िरऔन को तू ने ग़र्क़ किया रूद-ए-नील का
موسیٰ کو تیرے حکم سے دریا نے راہ دی فرعون کو تو نے غرق کیا رودِ نیل کا
تیرے حکم سے دریا نے موسیٰ کو راستہ دیا، اور تُو نے فرعون کو دریائے نیل میں غرق کر دیا۔
12
तूफ़ान में नाख़ुदाई कश्ती-ए-नूह की हक़्क़ा जो अबदी नहीं मुझसे कफ़ील का
طوفان مین ناخدائی کشتی نوح کی حقّا جو ابدی نہین مجھسے کفیل کا
طوفان میں نوح کی کشتی کی ناخدائی—حق تو یہ ہے کہ اگر وہ ابدی نہ ہوتی تو میں اپنے کفیل کی ضمانت لے لیتا۔
13
बंदा है किस का पूछेंगे जब मुनकिर-ओ-नकीर आशिक़ हूँ मैं कहूँगा कि बंदा जमील का
بندہ ہے کس کا پوچھین گے جب منکر و نکیر عاشق ہون مین کہون گا کہ بندہ جمیل کا
جب منکر و نکیر پوچھیں گے کہ تو کس کا بندہ ہے، تو میں عاشق ہونے کے ناطے کہوں گا کہ میں جمیل کا بندہ ہوں۔
14
साएल हूँ मुझको क़ैद कम-ओ-बेश की नहीं मुख़्तार है करीम कसीर-ओ-क़लील का
سائل ہون مجھکو قید کم و بیش کی نہین مختار ہے کریم کثیر و قلیل کا
میں ایک سائل ہوں، مجھے کم یا زیادہ کی کوئی قید نہیں ہے۔ وہ کریم ہی تھوڑے اور بہت کا مالک و مختار ہے۔
15
कोताह याँ कमंद है क़ासिर है नर्दबान बाम-ए-मुराद अर्श है रब्ब-ए-जलील का
کوتاہ یان کمند ہے قاصر ہے نردبان بامِ مراد عرش ہے رب جلیل کا
یہاں کمند چھوٹی پڑتی ہے اور سیڑھی بھی ناکافی ہے؛ میری مراد کی چھت تو اُس رب جلیل کا عرش ہے۔
16
आवाज़ा तेरे अद्ल का हो सबके गोश-ज़द पश्शा से ज़ोर चल नहीं सकता हो फ़ील का
آوازہ تیرے عدل کا ہو سبکہ گوش زد پشّہ سے زور چل نہین سکتا ہو فیل کا
تمہارے عدل کا چرچا ہر کسی کے کانوں تک پہنچے کہ یہاں ہاتھی کا زور بھی مچھر پر نہیں چل سکتا۔
17
देखा तो ख़ार-ओ-गुल का मक़ाम एक शाख़ है दिल तोड़ता नहीं तू अज़ीज़-ओ-ज़लील का
دیکھا تو خار و گل کا مقام ایک شاخ ہے دل توڑتا نہیں تو عزیز و ذلیل کا
جب دیکھا تو کانٹے اور پھول کا ٹھکانہ ایک ہی شاخ ہے؛ تو کسی کا دل نہیں توڑتا، چاہے وہ عزیز ہو یا ذلیل۔
18
दी है जो तू ने तिश्ना-ए-ग़ुर्बत को आबरू कौसर का पानी ऐसा है ने सलसबील का
دی ہے جو تو نے تشنۂ غربت کو آبرو کوثر کا پانی ایسا ہے نے سلسبیل کا
پردیس میں پیاس سے تڑپتے ہوئے کو تو نے جو عزت و آبرو بخشی ہے، ویسی مٹھاس اور پاکیزگی نہ کوثر کے پانی میں ہے اور نہ سلسبیل کے چشمے میں۔
19
सुरमा किया जो बर्क़-ए-तजल्ली ने तूर को मंज़ूर तुझको जल्वा था चश्म-ए-कहील का
سُرمہ کیا جو برقِ تجلّی نے طور کو منظور تجھکو جلوہ تھا چشمِ کحیل کا
جب تجلّی کی بجلی نے کوہِ طور کو سرمہ بنا دیا، تو تجھے یہ جلوہ اس لیے منظور تھا کہ وہ کسی سرمگیں آنکھ کی زینت بنے۔
20
आतिश यही दुआ है ख़ुदा-ए-करीम से मोहताज ऐ करीम न कीजो बख़ील का
آتش یہی دعا ہے خدائے کریم سے محتاج اے کریم نہ کیجو بخیل کا
اے آتش، کریم خدا سے بس یہی دعا ہے کہ اے کریم، مجھے کسی بخیل کا محتاج نہ بنانا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.