بندہ ہے کس کا پوچھین گے جب منکر و نکیر — خواجہ حیدر علی آتش

بندہ ہے کس کا پوچھین گے جب منکر و نکیر عاشق ہون مین کہون گا کہ بندہ جمیل کا

“When Munkar and Nakir shall ask me whose devoted slave I am, A lover am I—I'll say: a slave of Jamil's, this I'll proclaim.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

جب منکر و نکیر پوچھیں گے کہ تو کس کا بندہ ہے، تو میں عاشق ہونے کے ناطے کہوں گا کہ میں جمیل کا بندہ ہوں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر موت کے بعد کے اُس منظر کا تصور کرتا ہے جب منکر و نکیر قبر میں آ کر پوچھتے ہیں کہ تُو کس کا بندہ ہے۔ عام انسان اپنے مذہب یا خدا کا نام لیتا، مگر یہ عاشق بڑی بے باکی سے کہتا ہے کہ میں تو اپنے محبوب جمیل کا بندہ ہوں۔ یہاں عشق کو عبادت سے بھی بلند مقام دیا گیا ہے—عاشق کی پہچان ہی اس کا محبوب ہے، اور موت کے بعد بھی وہی اس کا ایمان ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.