دیکھا تو خار و گل کا مقام ایک شاخ ہے — خواجہ حیدر علی آتش

دیکھا تو خار و گل کا مقام ایک شاخ ہے دل توڑتا نہیں تو عزیز و ذلیل کا

“I looked, and thorn and rose share one same branch, I see; You break no heart, be it the noble's or the low's, for thee.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

جب دیکھا تو کانٹے اور پھول کا ٹھکانہ ایک ہی شاخ ہے؛ تو کسی کا دل نہیں توڑتا، چاہے وہ عزیز ہو یا ذلیل۔

تشریح

شاعر ایک ہی شاخ پر خار اور گل کو ساتھ اُگا دیکھ کر ایک لطیف بات کہتا ہے کہ فطرت کسی سے امتیاز نہیں کرتی۔ جیسے وہ شاخ کانٹے اور پھول دونوں کو یکساں تھامے رہتی ہے، ویسے ہی تُو کسی عزیز یا ذلیل کے دل میں فرق نہیں کرتا اور کسی کا دل نہیں توڑتا۔ یہ برابری اور رحمدلی کا پیغام ہے کہ کوئی دل خواہ کتنا ہی حقیر کیوں نہ ہو، اُسے دکھانا روا نہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.