سُرمہ کیا جو برقِ تجلّی نے طور کو — خواجہ حیدر علی آتش

سُرمہ کیا جو برقِ تجلّی نے طور کو منظور تجھکو جلوہ تھا چشمِ کحیل کا

“The lightning of Thy splendour ground Mount Sinai into kohl— Thou wished, for darkened lashes, to grace a lover's eye.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

جب تجلّی کی بجلی نے کوہِ طور کو سرمہ بنا دیا، تو تجھے یہ جلوہ اس لیے منظور تھا کہ وہ کسی سرمگیں آنکھ کی زینت بنے۔

تشریح

یہ شعر اُس مشہور قرآنی واقعے کی طرف اشارہ کرتا ہے جب موسیٰؑ نے کوہِ طور پر خدا کا جلوہ دیکھنا چاہا اور بجلی کی مانند چمکتی تجلّی سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر خاک بن گیا۔ شاعر اِس خاک کو 'سرمہ' کہتا ہے—یعنی وہ باریک چُورا جو آنکھوں میں لگایا جاتا ہے—اور کہتا ہے کہ خدا نے یہ جلوہ شاید اِسی لیے دکھایا کہ کسی عاشق کی سیاہ، خوبصورت پلکوں والی آنکھ کے لیے سرمہ تیار ہو جائے۔ عشق کی نظر میں کائنات کا ہر عظیم واقعہ محبوب کے حسن کی آرائش بن جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.