آوارہ ہون مین گور کی منزل کے شوق مین — خواجہ حیدر علی آتش
“A wanderer am I, longing for the grave's abode; the highwayman will treat me with the courtesy of proof.”
معنی
میں قبر کی منزل کے شوق میں آوارہ پھرتا ہوں؛ رہزن مجھ سے دلیل کے سے سلوک کرے گا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر خود کو ایک آوارہ مسافر کہتا ہے جس کی واحد منزل قبر یعنی موت ہے — ایسا دل جو زندگی سے اتنا بیزار ہو کہ موت ہی اس کی تمنا بن جائے۔ کتنی گہری بات ہے کہ راستے کا لٹیرا بھی ایسے مسافر کو لوٹنے کے بجائے ادب سے پیش آئے گا اور اسے راہ دکھا دے گا، کیونکہ جو خود موت کا طلبگار ہو اس سے بھلا کیا چھینا جائے۔ یہ اُس عجیب سکون کی تصویر ہے جو ہر شے کھو دینے والے کو نصیب ہوتا ہے، جہاں خطرہ بھی نرم پڑ جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
